اتوار 7 جون 2026 - 20:09
غدیر کے پیغام کو اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں عملی شکل دیں، علامہ سید محمد تقی نقوی

حوزہ / کوٹ بنگلو (ضلع خیرپور میرس، سندھ) میں جشنِ عید غدیر کا انعقاد کیا گیا۔ جس میں حضرت علامہ سید محمد تقی نقوی نے خصوصی خطاب کیا۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ضلع خیرپور میرس کے علاقے کوٹ بنگلو میں عید سعید غدیر کے پُرمسرت موقع پر ایک عظیم الشان جشن کا انعقاد کیا گیا جس میں علماء کرام، مؤمنین اور مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے افراد کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

اس موقع پر حضرت علامہ سید محمد تقی نقوی نے خصوصی خطاب کرتے ہوئے عید غدیر کی تاریخی، اعتقادی اور تہذیبی اہمیت پر روشنی ڈالی۔

غدیر کے پیغام کو اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں عملی شکل دیں، علامہ سید محمد تقی نقوی

انہوں نے کہا: غدیر خم کا واقعہ تاریخ اسلام کا ایک روشن اور ناقابلِ فراموش باب ہے جس میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے حضرت امام علی علیہ السلام کو اپنا جانشین اور امت کا رہبر مقرر فرمایا۔

علامہ سید محمد تقی نقوی نے کہا: عید غدیر صرف ایک تاریخی واقعہ کی یاد نہیں بلکہ یہ ولایت، قیادت، عدل اور حق کی پاسداری کا پیغام بھی ہے۔

انہوں نے کہا: واقعۂ غدیر امتِ مسلمہ کے لیے اتحاد، اخوت اور صحیح اسلامی قیادت کی شناخت کا معیار فراہم کرتا ہے۔

حضرت علامہ نے اپنے خطاب میں نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ معارفِ اہل بیت علیہم السلام سے گہرا تعلق قائم کریں اور غدیر کے پیغام کو اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں عملی شکل دیں۔

غدیر کے پیغام کو اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں عملی شکل دیں، علامہ سید محمد تقی نقوی

انہوں نے کہا: آج کے دور میں امت مسلمہ کو ان تعلیمات کی زیادہ ضرورت ہے جو غدیر کے پیغام میں مضمر ہیں۔

علامہ نقوی نے مزید کہا: حضرت امام علی علیہ السلام کی سیرت عدل، تقویٰ، علم اور خدمتِ خلق کا بہترین نمونہ ہے اور اگر اسلامی معاشرہ ان اصولوں کو اپنالے تو بہت سے سماجی اور اخلاقی مسائل کا حل ممکن ہو سکتا ہے۔

جشن کے اختتام پر حاضرین نے عید غدیر کی مناسبت سے ایک دوسرے کو مبارکباد پیش کی اور امت مسلمہ کی وحدت، پاکستان کی سلامتی اور عالم اسلام کی سربلندی کے لیے خصوصی دعائیں کی گئیں۔

غدیر کے پیغام کو اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں عملی شکل دیں، علامہ سید محمد تقی نقوی

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha